باڑھ دار
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - دھار رکھنے والا، تیز۔ "ناوک اندازی کرتے وقت آپ یہ دیکھ لیں کہ کون سا تیر اچھا تیز، باڑھ دار، مضبوط اور کاری ہے۔" ( ١٩٢٠ء، جویائے حق، ٢٣٣:٣ )
اشتقاق
ہندی زبان سے ماخوذ اسم 'باڑھ' کے ساتھ فارسی مصدر داشتن سے مشتق صیغۂ امر 'دار' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'باڑھ دار' مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔
مثالیں
١ - دھار رکھنے والا، تیز۔ "ناوک اندازی کرتے وقت آپ یہ دیکھ لیں کہ کون سا تیر اچھا تیز، باڑھ دار، مضبوط اور کاری ہے۔" ( ١٩٢٠ء، جویائے حق، ٢٣٣:٣ )